اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی، یہودی ریاست کی حیثیت سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے اور ہم اس پالیسی کے خلاف ہیں، یہ ہمارا اڑیل رویہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے مفادات کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1948 میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے غاصبانہ قبضے کے بعد سے خود ان کے سمیت ساٹھ لاکھ فلسطین پناہ گزین ہیں جو بے گھر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہودی ریاست کو تسلیم کرنا، فلسطینیوں کی وطن واپسی کے حق کے متضاد ہے۔
فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیلی، مذاکرات کے بہت ہی مشکل فریق ہیں کیونکہ انہیں امن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ کام کرنا بہت مشکل ضرور ہے، ہم ایسے افراد کے ساتھ باہمی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں جو امن میں یقین ہی نہیں رکھتے۔ آپ امن کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہ نہیں چاہتے۔
محمود عباس نے اسی طرح 1967 کی سرحدوں میں ایک آزاد ریاست بنانے کی فلسطینیوں کےمطالبات کو دہراتے ہوئے صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔
.......
/169